Friday, April 17, 2009

امریکی جنگی حکمت عملی اور پاکستان کا رد عمل!

امریکی جنگی حکمت عملی اور پاکستان کا رد عمل!
امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل مائک مولن نے پنٹاگون میں بریفنگ دیتے ہوئے کہاہے کہ نئی فوجی حکمت عملی میں پاکستان کے اند ربھی کارروائی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان سرحد کے دونوں جانب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بائیں گے۔اس سے قبل صدر بش بھی اسی طرح کا حکمت علی کا اظہار کرچکے ہیں۔ امریکی کمانڈر کے اس بیان پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ ملکی سرحدوں کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ پاکستان میں کسی غیر ملکی افواج کو آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے، اتحادی افواج کے ساتھ تعاون میں قوائد و ضوابط طے شدہ ہیں،اتحادی افواج سے پاکستانی حدود کے اندر کارروائی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

کیا پاکستان کے اندرونی علاقوں پر کارروائی پاکستان پر براہ راست حملے کی دھمکی نہیں ہے؟ کیا ہم نے تعاون کا معاہدہ اس لئے کیا تھا کہ ہم پر ہی چڑھائی کی جائے ؟ حکومت پاکستان کو اس حوالے سے فوری طور پرکیا اقدامات کرنے چاہئیں ؟۔ اس بارے میں آپ کی کیارائے ہے۔

No comments:

Post a Comment